لڑائی و ڑائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لڑائی وغیرہ، لڑائی بھڑائی۔ "لڑائی و ڑائی تو کچھ ہوتی نہیں ہاں یہ لوگ اللہ کی نعمتوں اور اس کے فضل سے لدے پھندے گھروں کو وآپس آئے۔"      ( ١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ١١٤:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'لڑائی' کے ساتھ 'وڑائی' بطور تابع مہمل لگا کر مرکب 'لڑائی وڑائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٥ء کو "ترجمہ قرآن مجید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لڑائی وغیرہ، لڑائی بھڑائی۔ "لڑائی و ڑائی تو کچھ ہوتی نہیں ہاں یہ لوگ اللہ کی نعمتوں اور اس کے فضل سے لدے پھندے گھروں کو وآپس آئے۔"      ( ١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ١١٤:١ )

جنس: مؤنث